نئی دہلی:6/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بٹ کوئن جدید دورکے تقاضے کے مطابق ایک ترقی یافتہ کرنسی ہے ،ٹیکنالوجی کی تمام خصوصیات اس میں پائی جاتی ہے،معتبر،محفوظ اور ذاتی ہے ،ڈیجیٹل دستخط بھی موجود ہے اور مستقبل اسی کرنسی کا ہے ۔ان خیالات کا اظہار معروف اسکالر ڈاکٹر کلیم عالم ریسرچ اینڈ ایڈوئزر اسلامک اکنامک انسٹی ٹیوٹ کنگ عبد العزیز یونیورسیٹی جدہ سعودی عربیہ نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز میں اپنے لیکچر کے دوران کیا ۔اپنے خاص لیکچر میں بٹ کوئن کی مختلف خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس پر ہونے والے اعتراضا ت کا بھی انہوں نے جواب دیا ۔انہوں نے بتایاکہ بیشتر علماء اور مفتیان کرام کو اس پر اعتراض ہے جس میں مصر کے مفتی اعظم شیخ شواقی علام ،ترکی حکومت کی مذہبی وزرات ،فلسطین فتوی سینٹر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سر فہرست ہیں جبکہ کچھ علماء واسکالرس نے اس کو صحیح ثابت کیا ہے جس میں ساؤتھ افریقہ میں واقع دارالعلوم زکریا کا فتوی سینٹر ،مفتی محمد ابو بکر وغیرہ سر فہرست ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ جو اعتراضات بٹ کوئن پر کئے جاتے ہیں وہ دوسری کرنسیوں میں بھی موجودہیں جہاں تک بات ہے اس کا کسی حکومت کے ماتحت نہ ہونا تو یہی اس کی نمایاں خصوصیت ہے کہ سرکاری اور حکومت کے تلسط سے آزاد ہے ۔اس موقع پر پروفیسر افضل وانی اور کئی ایک اسکالرس نے ڈاکٹر کلیم عالم کے نظریہ سے اختلاف کرتے ہوئے کہاکہ بٹ کوئن ایک فرضی کرنسی ہے ،یہ کسی حکومت اور ریاست کے بھی ماتحت نہیں ہے ،خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے اس لئے اس کو کیسے درست ٹھہرا یاجاسکتاہے جس کا جواب انہوں نے دیتے ہوئے کہاکہ اس کرنسی کی یہی خصوصیت ہے کہ حکومتی دباؤ اور تلسط سے آزاد ہے بقیہ اعتراضات تمام کرنسیوں میں پائے جاتے ہیں ۔انہوں نے کرنسی کی تاریخ بتاتے ہوئے کہاکہ ایک بٹ کوئن کی قیمت 5,08886انڈین روپیہ اور 7427.38 ڈالر ہے ۔نومبر 2008 میں ستوشی ناکاموٹو نے اس عنوان پر ایک مقالہ لکھاتھا اور 2010 میں اسے عوام کیلئے کھول دیاگیا ۔پہلی مرتبہ 1000 بٹ کوئن میں دو پیزا خریداگیا ۔اس موقع پرمعروف اسکالر اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنانظریہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ڈیجیٹل دنیا ترقی کررہی ہے ،سیکوریٹی اور تحفظ کے تمام اسباب پیداہورہے ہیں،اے ٹی ایم کارڈ اور ڈیجیٹل کیش کے ذریعہ دنیا کا نظام ترقی کررہاہے۔بٹ کوئن کے حوالے سے بھی اسی نظریہ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔رائج کرنسی میں بھی اب مالیت دس فیصد سے بھی کم ہوکر رہ گئی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی اعتبار کیا جارہاہے ۔لیکچر تقریب کی صدارت پروفیسر نوشاد علی آزاد پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر شاہد لون نے نظامت کا فریضہ انجام جبکہ مولانا اطہر حسین ندوی کی تلاوت سے آغاز ہوا ۔اس موقع پر پروفیسر حسینہ حاشیہ ۔ایچ عبد الرقیب۔حاجی پرویز میاں ۔مفتی ارشد فاروقی سمیت متعدد اہل علم ودانشوران نے شرکت کی ۔